چراغِ طاق نسیاں سے نہ جلتے ہو نہ بجھتے ہو
تمھیں اک دن ہَوا سے بھی لپٹ کر دیکھ لینا تھا
Related posts
-
عدیم ہاشمی
غم کے ہر اک رنگ سے مجھ کو شناسا کر گیا وہ مرا محسن مجھے پتھر... -
علی سردار جعفری
آئے ہم غالبؔ و اقبالؔ کے نغمات کے بعد مصحفِ عشق و جنوں حسن کی آیات... -
شہزاد احمد
شام ہونے کو ہے جلنے کو ہے شمعِ محفل سانس لینے کی بھی فرصت نہیں پروانے...
